حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 25 محرم الحرام، حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے یومِ شہادت کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا: حضرت امام زین العابدین علیہ السلام واقعۂ کربلا کے عینی شاہد تھے اور آپ علیہ السلام نے اپنے خطبات، تبلیغ، دعا اور مناجات کے ذریعے کربلا کی حقیقی روح کو امت تک پہنچایا۔ آپ علیہ السلام نے باطل پروپیگنڈے کو ناکام بنایا، یزیدیت کے چہرے کو بے نقاب کیا اور حسینیت کے حقیقی خدوخال کو ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا۔
انہوں نے کہا: حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے ولادت سے لے کر کربلا اور کربلا سے مدینہ میں شہادت تک نہایت سخت اور صبر آزما حالات کا سامنا کیا، لیکن ہر مرحلے پر صبر و استقامت کا ایسا عملی نمونہ پیش کیا جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
قائد ملت جعفریہ نے مزید کہا: امام زین العابدین علیہ السلام نے زہد، تقویٰ، روحانیت اور تزکیۂ نفس کی جو تعلیمات امت کو عطا کیں، ان کا جامع ترین مظہر صحیفۂ سجادیہ ہے، جس میں موجود دعائیں انسان کو خدا سے براہِ راست تعلق، خودسازی اور اخلاقی ارتقا کا راستہ دکھاتی ہیں۔ اگر آج کے دور میں ان تعلیمات سے حقیقی استفادہ کیا جائے تو فرد اور معاشرہ دونوں دنیوی و اخروی کامیابی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔
علامہ ساجد نقوی نے امام زین العابدین علیہ السلام کی ایک مناجات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دو قطرے سب سے زیادہ محبوب ہیں؛ ایک راہِ خدا میں شہید کے خون کا قطرہ اور دوسرا رات کی تاریکی میں خوفِ خدا اور تقربِ الٰہی کے جذبے سے بہنے والا آنسو۔
انہوں نے کہا: امام سجاد علیہ السلام نے دعا اور مناجات کے ذریعے انسان کو اپنے رب سے راز و نیاز کا سلیقہ سکھایا اور عبادت کے ذریعے نفس پر قابو پانے کی راہ دکھائی۔ اگر آج ہم سیرتِ سجادی کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں تو نہ صرف اپنی اصلاح کر سکتے ہیں بلکہ صبر، حکمت اور اخلاق کے ذریعے معاشرے کو بھی مشکلات سے نجات دلانے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا: آج انسانیت ایک بار پھر یزیدی قوتوں کے محاصرے میں ہے، جو عالم اسلام کی دینی، علمی، ثقافتی اور تہذیبی شناخت کے ساتھ ساتھ اس کی آزادی اور خودمختاری کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ایسے نازک حالات میں امام زین العابدین علیہ السلام کی تعلیمات، اصول اور سیرت سے رہنمائی حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ہر دور کی نئی یزیدیت کو بے نقاب کر کے حق و عدالت کے راستے کو مضبوط بنایا جا سکے۔









آپ کا تبصرہ